غیرقانونی منافع خوری، ذخیرہ اندوزی کرنے والی ملوں کے خلاف کریک ڈاؤن

اسلام آباد ۔وفاقی وزیر کی شوگر سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت؛ غیرقانونی منافع خوری کرنے والی شوگر ملز کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، جناب رانا تنویر حسین نے آج شوگر سیکٹر سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (PSMA)، صوبائی زرعی محکموں اور ملک بھر سے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد چینی کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایکس مل ریٹ 165 روپے فی کلوگرام پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا۔

وزیر موصوف نے ان اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ متعدد شوگر ملز سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت کی خلاف ورزی کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ ہو رہا ہے اور عوام پر بلاجواز بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس طرح کی منڈی میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے PSMA کو سختی سے خبردار کیا کہ اگر ایسوسی ایشن اپنے ارکان کو حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی، تو حکومت ازخود منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمتوں پر چینی فروخت کرنے والی ملوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کرے گی۔

اجلاس کے دوران وزیر نے چینی کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور اضلاع کی سطح پر نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی فوری نشاندہی اور روک تھام ہو سکے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ وزارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور صوبائی فوڈ اتھارٹیز سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

جناب رانا تنویر حسین نے صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کو دہرایا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور چینی کی بلا تعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں.

اپنا تبصرہ لکھیں