uae visa

یو اے ای کی پاکستانیوں کو ویزا میں مکمل تعاون کی یقین دہانی

یونائیٹڈ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستانی شہریوں کو ویزا کے اجرا میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جس سے شہریوں کو روزگار اور کاروباری مواقع حاصل کرنے میں آسانی ہوگی — خواہ وہ دیہی علاقوں سے ہوں یا شہروں سے۔

**اعلیٰ سطح ملاقات میں اہم پیش رفت**

ابوظہبی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں یہ فیصلہ سامنے آیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستانی شہریوں، خاص طور پر محنت کش طبقے، کے لیے ورک ویزا کے عمل کو آسان اور تیز تر بنایا جائے گا۔

**وزارت داخلہ کا بیان**

وزارت داخلہ پاکستان کے مطابق ملاقات میں ان مسائل پر بات چیت ہوئی جن کا سامنا پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزا حصول میں ہوتا ہے۔ یو اے ای کے وزیر داخلہ نے پاکستانی حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ ویزا پالیسیوں کو بہتر بنانے میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔

**محسن نقوی کا مؤقف**

محسن نقوی نے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ برادرانہ تعلقات پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں پاکستانی یو اے ای کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستانیوں کو یو اے ای میں آسانی سے داخلے کے مواقع ملیں تاکہ وہ بہتر روزگار اور زندگی کے لیے اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔

**سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی میں تعاون**

دونوں ممالک کے درمیان ملاقات میں صرف ویزا معاملات ہی نہیں بلکہ سیکیورٹی، منشیات کے خلاف کارروائی، اسمگلنگ کی روک تھام، غیر قانونی امیگریشن اور جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق ہوا کہ ان شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

**پولیسنگ ماڈل کا دورہ**

محسن نقوی نے ابوظہبی میں جدید پولیسنگ اور آپریشن روم کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں جرائم کی روک تھام اور عوامی تحفظ سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے یو اے ای کے جدید پولیسنگ سسٹم میں دلچسپی کا اظہار کیا اور اسے پاکستان کے لیے ایک ماڈل قرار دیا۔

یہ پیش رفت پاکستانی شہریوں کے لیے ایک مثبت قدم ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو گلف ممالک میں روزگار کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ شہری ہوں یا دیہاتی، اب ویزا کے حصول میں آسانی اور شفافیت کی امید کی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں