اسلام آبادقومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سب کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کی جانب سے جرمانوں کی ریکوری، زیر التوا مقدمات، اور قانونی کارروائیوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمپٹیشن کمیشن کے مالی سال 2021-22 کے دو آڈٹ پیروں کا جائزہ لیا گیا۔ پہلا آڈٹ پیرا کمیشن کے فیصلوں کے خلاف عدالتوں میں زیرالتو اپیلوں کے حوالے سے تھا۔ چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بتایا کہ کمیشن کے لیگل ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ مقدمات کی موثر پیروی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کی فعال پیروی کے نتیجے میں عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 577 سے کم ہو کر تقریباً 300 رہ گئی ہے، جب کہ ان میں سے 224 مقدمات کے فیصلے ہو چکے ہیں، اور عدالتوں میں مقدمات کا بیک لاک تقربیاً 50 فیصد تک کم ہوا ہے۔
ڈاکٹر کبیر سدھو نے کمیشن نے گزشتہ ایک سال کے دوران 11 بڑے فیصلے جاری کیے، جب کہ کارٹیل ڈیپارٹمنٹ نے رواں مالی سال میں 20 انکوائریاں مکمل کی ہیں۔ اسی طرح گمراہ کن مارکیٹنگ کے 13 انکوائریاں مکمل کی گئی ہیں۔ کمیشن نے اس عرصے کے دوران 12 کروڑ روپے سے زائد کےنجرمانے ریکور کئے ہیں، جو کہ کم،یشن کے قیام سے اب تک سب سے زیادہ ریکوری ہے۔ علاوہ ازیں، ادارے میں ایک نیا ریسرچ وِنگ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ پالیسی سازی اور تجزیاتی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
چیئرمین نے بتایا کہ جرمانوں کی ریکوری کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں، تاہم عدالتی تاخیر اور دیگر عوامل کی وجہ سے مجموعی ریکوری کی رقم 68 ارب روپے سے کم ہو کر 19 ارب روپے رہ گئی ہے۔ انہون نے واضح کیا کہ کمیشن کا 2021 کا فیصلہ، جس میں شوگر انڈسٹری پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عادئ کیا گیا تھا، عدالت نے دوبارہ سماعت کے لئے کمیشن کو بھجوا دیا ہے، اس لئے اس 44 ارب روپے کے جرمانے کو قابل ریکوری شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح، قابل ریکوری جرمانہ صرف 19 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے اس بات پر زور دیا کہ کمپٹیشن کمیشن کو مقدمات کی پیروی کے لیے بہترین وکلاء کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں تاکہ فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ریگولیٹری اداروں، خصوصاً کمپٹیشن کمیشن، کی جرمانوں کی ریکوری میں فعال کردار ادا کرے۔