اسلام آباد ۔سینئر تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے اپنے حالیہ انٹرویو میں صدر آصف علی زرداری کے استعفے سے متعلق چلنے والی خبروں کی واضح تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خبر کا مقصد ہرگز استعفیٰ کی پیش گوئی نہیں تھا، بلکہ وہ ایک بڑی آئینی تبدیلی اور ممکنہ صدارتی نظام کے منصوبے سے متعلق تھی۔
یہ گفتگو اعزاز سید نے یوٹیوب شو “Talk Shock” میں کی، جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی رپورٹ کو کچھ حلقوں نے غلط تناظر میں لیا اور اس کی بنیاد پر صدر زرداری کے استعفے کی باتیں کی جانے لگیں۔
اعزاز سید نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ستائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق اصل دستاویزات خود دیکھیں، جن میں صدر کے اختیارات بڑھانے، اور پارلیمانی نظام کو جزوی طور پر صدارتی نظام کی طرف منتقل کرنے کے منصوبے شامل تھے