اوگرا کی جانب سے پاکستان کی آئل سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پاکستان کی پٹرولیم انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں ملک گیر “ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم” کی پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ سیشن اوگرا کے ڈیجیٹلائزیشن ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد سپلائی چین انڈسٹری میں شفافیت، حفاظت اور مؤثریت کو فروغ دینا ہے۔

اوگرا کے چیئرمین مسرور خان کی زیرصدارت اس اجلاس میں ممبر آئل زین العابدین، ممبر فنانس شکیل احمد،ڈائریکٹر جنرل ایکسپلوزِوز ، ڈائریکٹر جنرل آئل، اور چیئرمین او سی اے سی سمیت 100 سے زائد شرکاء نے شرکت کی جن میں PSO، PARCO، APL، ARL، NRL اور دیگر معروف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

چیئرمین اوگرا نے پٹرولیم سپلائی چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو ناگزیر قرار دیا۔ ممبر آئل نے بتایا کہ یہ نظام ریفائنری سے ریٹیل آؤٹ لیٹس تک پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گا، جس میں ERP، GPS اور مرکزی ڈیش بورڈز شامل ہیں۔

اب تک 29 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ERP استعمال کر رہی ہیں اور تقریباً 15,000 آئل ٹینکرز GPS سے لیس ہیں، جو اوگرا کی آئندہ مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کو مؤثر بنائیں گے۔ یہ اجلاس اوگرا کے شفاف، محفوظ اور بااعتماد پٹرولیم سپلائی نظام کے عزم کا اعادہ تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں