پاکستان اسپورٹس بورڈ نے نیٹ بال فیڈریشن کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 کے حوالے سے حقائق کے برخلاف دعوے پر وضاحت نہ دینے پر پاکستان نیٹ بال فیڈریشن کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔

پی ایس بی کے ترجمان خرم شہزاد کے مطابق 13 جولائی 2025 کو پاکستان نیٹ بال فیڈریشن (پی این ایف) سے تین دن کے اندر اس وضاحت کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایشین یوتھ نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 میں پاکستان یوتھ گرلز ٹیم کے “پہلی پوزیشن” حاصل کرنے کا دعویٰ کیوں کیا، جب کہ اصل سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان چھٹے نمبر پر رہا۔ تاہم، مقررہ مدت کے دوران فیڈریشن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا۔

اس خاموشی پر جمعہ کے روز پی ایس بی نے باقاعدہ طور پر کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فیڈریشن کو شوکاز نوٹس ارسال کیا۔

شوکاز نوٹس کے مطابق، طے شدہ مہلت گزرنے کے باوجود وضاحت نہ دینا نہ صرف سرکاری سطح پر خط و کتابت کے عمل سے گریز کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس خاموشی کو ممکنہ طور پر اعترافِ غلطی بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔

نوٹس میں اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ 9 جولائی کو فیڈریشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں دانستہ طور پر غلط بیانی کی گئی کہ پاکستان یوتھ گرلز ٹیم نے جنوبی کوریا کے شہر جیونجو میں ہونے والی چیمپئن شپ میں سونے کا تمغہ حاصل کیا، حالانکہ اصل پوزیشن چھٹی تھی۔

مزید کہا گیا کہ نیٹ بال فیڈریشن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھی کہ انعامات کی پالیسی صرف ان ٹیموں کے لیے ہے جو تمغے جیتتی ہیں، اس کے باوجود فیڈریشن نے نقد انعام کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین مدثر رزاق آرائیں نے مختلف انٹرویوز اور بیانات میں بھی طلائی تمغہ جیتنے کا دعویٰ کیا اور عوام و متعلقہ اداروں کو گمراہ کیا۔

شوکاز میں وضاحت کی گئی کہ فیڈریشن کا یہ طرزِ عمل پی ایس بی کے آئین کی شق 21(1)(vi) اور پاکستان کوڈ آف ایتھکس اینڈ گورننس اِن اسپورٹس کی شق 5(1)(vi) کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو فیڈریشنز کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے کا پابند بناتی ہیں اور اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے پر زور دیتی ہیں۔

نوٹس میں کہا گیا کہ فیڈریشن نے جان بوجھ کر جھوٹے دعوے کے ذریعے نہ صرف سرکاری سطح پر سراہا جانے اور انعام حاصل کرنے کی کوشش کی بلکہ اس سے اخلاقی اقدار اور اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچی۔

پی ایس بی نے ہدایت کی ہے کہ اس نوٹس کے اجرا کی تاریخ سے سات دن کے اندر فیڈریشن تحریری طور پر وضاحت جمع کروائے کہ کیوں نہ اس پر 10 لاکھ روپے (ایک ملین روپے) جرمانہ عائد کیا جائے۔

بروقت جواب نہ دینے کی صورت میں یکطرفہ کارروائی کی جائے گی اور معاملہ مزید تادیبی و مالی اقدامات کے لیے پی ایس بی بورڈ کے سامنے رکھا جائے گا، تاکہ قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں