نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر سخت اور متنازع مؤقف اختیار کیا اور حماس، حزب اللہ، ایران، یمن کے حوثیوں اور شامی افواج کو کھلی دھمکیاں دیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی اداروں کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ڈھٹائی کے ساتھ اپنی عسکری کارروائیوں کا دفاع کیا اور اعتراف کیا کہ اسرائیل نے ایران کے ملٹری کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ پر حملے کیے، عراق و شام میں ملیشیاؤں کے ہتھیار تباہ کیے اور یمن کے حوثیوں کی بڑی جنگی صلاحیت ختم کردی۔
نیتن یاہو نے واضح دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ”حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے ورنہ انہیں ختم کر دیا جائے گا“۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے حماس رہنما یحییٰ السنوار کو قتل کیا اور غزہ میں مشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری توانائی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسرائیل اپنے دفاع کے لیے ہر جگہ کارروائیاں جاری رکھے گا۔ نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی بی-ٹو بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی۔
خطاب کے دوران نیتن یاہو نے ان یورپی ممالک پر بھی تنقید کی جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”یہ ممالک عوامی سطح پر اسرائیل پر تنقید کرتے ہیں مگر نجی ملاقاتوں میں ہمارا شکریہ ادا کرتے ہیں“۔