لاہور ہائیکورٹ میں جمشید دستی کی نااہلی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کی قیادت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے این اے 175 کے ضمنی انتخابات کے شیڈول کو معطل کر دیا، اور عدالت نے الیکشن کمیشن، اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس عالی نیلم نے استفسار کیا کہ وکیل صاحب، آپ بتائیں کہ آپ نے وکالت نامہ کب پر دستخط کیے؟ سچ سچ بتائیں، یہ کہانی بڑی دلچسپ لگتی ہے۔
وکیل جمشید دستی نے جواب دیا کہ میں نے وکالت نامہ کچھ تاخیر سے دستخط کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے درخواست اور الیکشن کمیشن کے فیصلے سمیت تمام مواد کا مطالعہ کیا ہے۔
وکیل اشتیاق چوہدری نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ریفرنس آیا جس پر نوٹس جاری کیا گیا، اور سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ الیکشن کمیشن کسی کو بغیر عدالتی حکم کے خود سے نااہل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں الیکشن کمیشن نے کسی عدالتی فیصلہ کے بغیر درخواست گزار کو نااہل قرار دے دیا ہے۔