لاہور۔اداکارہ حمیرا کے والدین نے میڈیا کو اپنے پہلے انٹرویو میں بہت سے سوالات اور رازوں سے پردہ اُٹھاتے ہوئے اپنی بیٹی کے قتل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیاہے۔
اداکارہ حمیرا کے والدین نے لاہور میں مقامی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ بیٹیاں کسے پیارے نہیں ہوتیں۔ ہمیں بھی اپنی بیٹی سے بہت پیار تھا لیکن سوشل میڈیا پر نجانے ہمارے بارے میں کیا کیا زہریلی باتیں کی گئیں۔
اداکارہ حمیرا کے والد نے تصدیق کی کہ انھیں سندھ پولیس نے لاش وصول کرنے کے لیے کال کی تھی لیکن پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائیوں میں تاخیر کے باعث فوری طور پر لاش لینے نہیں جاسکے۔
ڈاکٹر اصغر علی نے کہا کہ اگر لاش لینے سے انکار کیا تھا تو پھر بیٹے کو کراچی کیوں بھیجا تھا۔ میں پہلے ہی بہن کی اچانک موت پر غمزدہ اور بیمار تھا۔
حمیرا کے والد نے اس شک کا بھی اظہار کیا کہ میری بیٹی کے ساتھ کچھ “غلط” ہوا ہے۔ یہ موت قدرتی نہیں تھی۔لاش اسٹور روم میں اوندھی پڑی تھی اور گھر کے دروازے مشکوک حالت میں تھے۔
انھوں نے مزید کہا کہ گو میں کراچی نہیں گیا لیکن اب تک جو معلومات ملی ہیں اس سے لگتا ہے کہ بیٹی کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی یا وہ کسی سازش کا شکار ہوگئی۔
والد اصغر علی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بالکل غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایسا ہوتا تو وہ مجھے ضرور بتاتی۔
حمیرا کے والد نے مزید بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ میری بیٹی اچھا کماتی تھی اور فلاحی کاموں میں بھی کھل خرچ کرتی تھیں۔
اداکارہ کی والدہ کے بقول حمیرا سے آخری بار اگست 2024 کے آخر میں فون پر بات ہوئی تھی لیکن اس کے بعد جتنی بار کال کی نمبر بند آتا تھا۔
حمیرا کی والدہ نے مزید کہا کہ مجھے لگا شاید وہ بیرون ملک چلی گئی ہے۔ اس لیے کال نہیں لگ رہی ہے اور پھر اس نے ایک بار ترکیہ جانے کا کہا بھی تھا تو میں نے سوچا جب واپس آئے گی تو خود رابطہ کرلے گی۔
اداکارہ حمیرا کی والدہ نے پہلی بار اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ان کی بیٹی نے آخری بار گفتگو میں یہ بھی بتایا تھا کہ کوئی انہیں تنگ کر رہا ہے اور اس کے موبائل سمز بند کروا دی گئی ہیں لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
اداکارہ حمیرا کے والدین نے دوٹوک انداز میں بتایا کہ ہماری بیٹی سے کسی بات پر ناراضگی نہیں تھی۔ محبت کرتے تھے اور وہ ہماری مرضی سے شوبز میں گئی اور اس کی کامیابی پر فخر ہوتا تھا۔
اداکارہ کے والد نے سندھ پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حمیرا اصغر ان سے براہ راست نہیں جُڑی تھیں، لیکن پولیس جس سنجیدگی سے کیس کی تفتیش کر رہی ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔