اسلام آباد میں ’’گدھے کے گوشت‘‘ کی فروخت کا معاملہ، سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان

اسلام آباد کے ریسٹورنٹس میں گدھے کے گوشت کی فروخت کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصروں اور مزاحیہ میمز کی بھرمار ہو گئی ہے۔

یاد رہے، چند سال قبل لاہور میں ہوٹلوں پر گدھے کا گوشت بیچنے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس نے ملک بھر میں کھلبلی مچا دی تھی۔ اس کے بعد سے لاہور کے شہری مسلسل “گدھا گوشت پارٹی” کے طعنے برداشت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاہور اس بدنامی میں تنہا نہیں رہا، کیونکہ اسلام آباد بھی اسی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترنول میں فوڈ اتھارٹی نے ایک کارروائی کے دوران 25 ٹن گدھے کا گوشت برآمد کیا، جو مختلف ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو فروخت کے لیے سپلائی کیا جانا تھا۔ اس واقعے نے شہریوں کو شدید حیرت اور پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

جہاں اس انکشاف نے عوام کو تشویش میں ڈال دیا، وہیں سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کی ایک نئی لہر بھی دوڑ گئی۔ صارفین نے دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے کہا، ’’مبارک ہو، اب اسلام آباد بھی لاہور کی صف میں آ چکا ہے!‘‘ ایک اور صارف نے لکھا، ’’لاہوریوں کو اب کچھ نہ کہنا، اسلام آباد والوں نے بھی گدھا گوشت چکھ لیا‘‘، جبکہ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں تجویز دی، ’’اسلام آباد والوں کے لیے نئی اسپیشل ڈش: گدھا شنواری تیار ہے!‘‘

اس واقعے کے بعد ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے کھانوں پر شہریوں کا اعتماد مزید متزلزل ہو گیا ہے۔ عوام اب کھانے کے ذائقے سے زیادہ گوشت کی اصلیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک جملہ وائرل ہو چکا ہے: ’’ریسٹورنٹ میں یہ مت پوچھو کیا گوشت ہے، یہ پوچھو کہ کہیں گدھے کا تو نہیں؟‘‘

یہ انکشاف جہاں باعثِ فکر ہے، وہیں طنز و مزاح کا ایک نیا در بھی کھول چکا ہے۔ شہری اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ دیسی کھانوں کے ساتھ جو گوشت پیش کیا جاتا ہے، وہ واقعی دیسی ہے… یا کسی اور مخلوق کا؟

تو اگر آپ اسلام آباد کے کسی ہوٹل میں کھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو خبردار رہیے! پلیٹ میں ’’خالص گدھا گوشت‘‘ بھی ہو سکتا ہے — یا کم از کم سوشل میڈیا پر یہی گمان کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں