اسلام آباد: پاکستان کے کمپٹیشن کمیشن نے مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے بیک لاگ میں نمایاں کمی حاصل کر لی ہے، جس سے کمیشن کی کارکردگی اور قانونی کارروائیوں میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
کمپٹیشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 567 سے کم ہو کر صرف 223 رہ گئی ہے، جو کہ تقریباً 40 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کارکردگی کے نتیجے میں 36 کروڑ روپے جرمانوں کی مد میں ریکور بھی کیے جا چکے ہیں۔
کمیشن سے متعلق اپیلٹ ٹربیونل میں بیک لاگ میں 58 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں 121 مقدمات کے فیصلے سنائے گئے، اور اب صرف 89 کیسز زیر التوا رہ گئے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے کمپٹیشن کمیشن سے متعلق 39 مقدمات کے فیصلے سنائے، جس سے بیک لاگ میں 78 فیصد کمی ہوئی۔
سندھ ہائیکورٹ میں 40 مقدمات نمٹائے گئے اور بیک لاگ 61 فیصد کم ہوا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 13 کیسز نمٹائے، جس سے 43 فیصد کمی سامنے آئی۔

سپریم کورٹ نے بھی 11 اہم مقدمات نمٹائے اور کمیشن کے دائرہ اختیار سے متعلق 171 کیسز کو کلب کر دیا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کمپٹیشن کمیشن کو کمپنیوں سے معلومات طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے اور اس مقصد کے لیے کمیشن کو کسی مخصوص جواز کی ضرورت نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ دیا کہ کمپٹیشن کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے سے قبل اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
کمیشن کے مطابق یہ فیصلے نہ صرف ادارے کے دائرہ اختیار کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ مارکیٹ میں شفافیت اور مقابلے کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔