مالی سال 2014-25 ؛ کمپٹیشن کمیشن نے کارٹلز و گمراہ کن مارکیٹنگ پر 1 ارب روپے کے جرمانے عائد کئے

اسلام آباد۔ کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران ، گمراہ کن مارکیٹنگ کرنے، اور گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کے خلاف 12 آرڈر جاری کرتے ہوئے 1 ارب روپے سے زائد مالیٹ کے جرمانے عائد کیے ۔

کمپٹیشن قوانین کی خلاف ورزی پر یہ جرمانے کھاد، پولٹری، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل، رئیل اسٹیٹ، خوراک، صحت و صفائی کی مصنوعات، پینٹس اور تعلیم کے شعبوں سے منسلک کاروباری اداروں پر لگائے گئے۔

اس سال کمیشن کے 12 آرڈرز میں سے گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف آٹھ، گٹھ جور بنا کر قیمتیں فکس کرنے پر تین جبکہ ایک آرڈر لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کے غیرقانونی استعمال کے خلاف کارروائی کے لئے کمیشن کی قانونی حدود متعین کرنے کے لئے کیا گیا۔

کمیشن کے اہم ترین حکم ناموں میں چھ فرٹیلائزر کمپنیوں اور ان کی ایسوی ائیشن کے خلاف یوریا کھاد کی قیمتیں فکس کرنے پر مجموعی طور پر 37 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق، ہر ایک یوریا مینوفیکچر کمپنی پر 5 کروڑ روپے جبکہ ان کی ایسوسی ایشن پر ساڑھے 7 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

اسی سال کمیشن نے ایک دن کے برائلر چوزوں کی قیمتیں فکس کرنے پر آٹھ پولٹری ہیچریوں پر مجموعی طور پر ساڑھے 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔

رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں اپنے ہاؤسنگ پروجیکٹ کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے پر کنگڈم ویلی پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ۔ اسی طرح یونی لیور اور فرائزلینڈ کیمپینا اینگرو کو فروزن ڈیزرٹس کو بطور آئس کریم فروخت کرنے پر ساڑھے 7 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔ ایک اور کیس میں یونی لیور کو لائف بوائے کے پروڈکٹس میں چھوٹے دعوے پر مبنی اشتہارات چلانے پر 6 کروڑ روپے کا اضافی جرمانہ عائد کیا گیا۔

علاوہ ازیں ، اس سال الغازی ٹریکٹرز کو ایندھن کی بچت کے جھوٹے دعوے پر 4 کروڑ روپے، ہنڈائی نشاط موٹرز کوہنڈائی ٹکسون ایس یو وی کے گمراہ کن اشتہارات چلانے پر ڈھائی کروڑ روپے جبکہ فارما کمپنی تھری این لائف میڈ فارماسیوٹیکلز کو ڈائیلائسز مشینوں کے لیے جعلی سرٹیفیکس استعمال کرنے پر 2 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا جو بعد ازاں کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل نے کم کر کے 20 لاکھ روپے کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ گمراہ کن اشتہارات شائع کرنے پر برٹش لائسیم اور ڈائمنڈ پینٹس پر 50، 50 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔

چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کارٹیلائزیشن کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ملکی معیشت میں کارٹلز کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے تمام کاروباری ایسوی ائیشن کو خبردار کیا کہ وہ پرائس سے متعلق معلومات کے تبادلہ اور قیمتوں کو فکس کرنے سے دور رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں