air india plane crash report

ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: پائلٹ کی الجھن یا سنگین غلطی؟ رپورٹ نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے

حمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز جون 2025 میں پرواز کے فوری بعد گر کر تباہ ہو گئی، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثے سے چند لمحے پہلے کاک پٹ میں پائلٹس کے درمیان انجن فیول سوئچز سے متعلق الجھن دیکھی گئی۔

بھارتی طیارہ حادثات کی تحقیقاتی بیورو (AAIB) کی رپورٹ کے مطابق، جیسے ہی بوئنگ 787 ڈریم لائنر نے پرواز بھری، دونوں انجنوں کے فیول کٹ آف سوئچز تقریباً ایک ساتھ بند ہو گئے، جس سے انجنوں کو ایندھن کی فراہمی بند ہو گئی اور طیارے نے رفتار کھونا شروع کی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حادثے سے لمحے پہلے ایک پائلٹ نے دوسرے سے سوال کیا، “تم نے فیول کیوں بند کیا؟” جس پر دوسرے نے انکار کیا کہ وہ اس کا ذمہ دار نہیں۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سوال کس پائلٹ نے کیا۔

کمانڈر پائلٹ 56 سالہ سمیٹ صبر وال ایک تجربہ کار انسٹرکٹر تھے جن کے پاس 15,638 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا، جبکہ فرسٹ آفیسر کلائیو کنڈر 32 سالہ پائلٹ تھے جن کے پاس 3,403 گھنٹے کا ریکارڈ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فیول سوئچز کو حادثاتی طور پر بند کرنا ممکن نہیں۔ امریکی ایوی ایشن ماہر انتھونی برکہاؤس نے سوال اٹھایا: “اگر پائلٹ نے سوئچز بند کیے، تو کیوں؟”

حادثے میں طیارہ صرف 650 فٹ بلندی پر پہنچا تھا کہ اچانک نیچے آ گیا، درختوں اور ایک چمنی سے ٹکرایا، اور ایک عمارت سے جا ٹکرایا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور بلیک باکسز سے یہ حقائق سامنے آئے۔

ایئر انڈیا نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تاہم تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں انجنز نے گرنے سے پہلے دوبارہ آن ہونے کی کوشش کی، مگر طیارہ زمین سے ٹکرا گیا۔

یہ حادثہ ایئر انڈیا کی ساکھ بحال کرنے کی تاتا گروپ کی مہم کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے، جس نے 2022 میں حکومت سے کمپنی کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

واقعے کے بعد یورپی یونین نے ایئر انڈیا ایکسپریس کی نگرانی کا عندیہ بھی دیا ہے، جہاں ریگولیٹری ہدایات پر عمل نہ کرنے اور جعلی ریکارڈنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔

بھارت کی حکومت ملک کو ایوی ایشن حب بنانے کے لیے کوشاں ہے، مگر اس سانحے نے اس خواب کو ایک بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔ حتمی رپورٹ ایک سال میں متوقع ہے، تاہم موجودہ ابتدائی رپورٹ نے نہ صرف تکنیکی بلکہ انسانی غلطیوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں