زرعی گریجویٹس، چین میں تربیت کے لیے100 نوجوان کل روانہ ہوں گے

اسلام آباد ۔پاکستان کے زرعی شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور علمی تبادلے کے ذریعے انقلابی بہتری لانے کے ایک تاریخی اقدام کے تحت 100 نوجوان زرعی ماہرین پر مشتمل ایک گروپ کل چین روانہ ہو رہا ہے۔ یہ تربیت ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں حاصل کریں گے، اور یہ روانگی پرواز PK-856 کے ذریعے ہوگی۔ یہ پروگرام وزیراعظم کے خصوصی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد 1000 پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین کے جدید زرعی اداروں میں تربیت دینا ہے تاکہ وہ جدید، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اور ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی طریقوں سے مستفید ہو سکیں۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے آج ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد چین میں تربیت کے لیے روانہ ہونے والے 100 زرعی گریجویٹس کو رخصت کرنا تھا۔

اس موقع پر سیکریٹری ایم این ایف ایس آر جناب عامر محی الدین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تربیت کے لیے منتخب نوجوانوں کے جوش و جذبے اور صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا، “آپ پاکستان کے زرعی مستقبل کے سفیر ہیں۔ یہ صرف ایک تربیتی سفر نہیں بلکہ ایک تبدیلی کا موقع ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ جدید فنی علم، اختراعی خیالات اور عملی مہارتوں کے ساتھ واپس آئیں گے جو پاکستان کے زرعی شعبے کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔”

سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام وزیراعظم کے وژن کا عکاس ہے، جس کے تحت پاکستان کے زرعی شعبے کو ٹیکنالوجی اپنانے اور بین الاقوامی تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ذریعے مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے طلباء کو نظم و ضبط برقرار رکھنے، تربیت سے بھرپور استفادہ کرنے اور پاکستان و چین کے مابین دوستی اور تعاون کے پل کا کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔

تقریب کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری عالم زیب، ڈپٹی سیکریٹری شفقات عباس اور دیگر سینئر افسران نے طلباء کو تربیتی شیڈول، مضامین اور متوقع نتائج سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس منصوبے کی تیاری اور نفاذ کے دوران اپنے تجربات بھی شیئر کیے اور تربیت کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

یہ پروگرام وزیراعظم کی جانب سے جون 2024 میں شانشی صوبے میں یانگلنگ ایگریکلچرل ٹیکنالوجی ڈیمونسٹریشن بیس کے دورے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کی 9 اور 12 نومبر 2024 کی ہدایات کے مطابق، اس منصوبے کی نگرانی اور عمل درآمد کی ذمہ داری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو دی گئی، جس نے ایچ ای سی، وزارت خارجہ، وزارت آئی ٹی، این آئی ٹی بی، اور بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ مل کر اس اقدام پر عمل درآمد کیا۔

ایم این ایف ایس آر نے میرٹ اور شفافیت پر مبنی انتخابی معیار تیار کیا، جس میں بلوچستان کے لیے 10 فیصد اضافی کوٹہ بھی شامل کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے قومی اخبارات میں اشتہارات شائع کیے گئے۔ منصوبے کی مجموعی نگرانی کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اور امیدواروں کے انتخاب کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی۔

این آئی ٹی بی نے اس پروگرام کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل پورٹل تیار کیا، جس کے ذریعے رجسٹریشن، شارٹ لسٹنگ، مواصلات اور رپورٹ جمع کرانے کے عمل کو آن لائن مکمل کیا جا رہا ہے۔ یہی پلیٹ فارم تربیت کے دوران ہفتہ وار رپورٹس اور بعد از تربیت جائزوں کے لیے بھی استعمال ہو گا۔

پہلے بیچ کے 300 طلباء کا انتخاب ایم این ایف ایس آر، ایچ ای سی، انٹیلیجنس بیورو (سیکیورٹی کلیئرنس) اور چینی سفارتخانے (ویزا عمل) کے تعاون سے کیا گیا۔ یہ بیچ شانشی کے ادارے میں اپنی تربیت مکمل کر چکا ہے اور یہ گروپ پیر کے روز اسی پرواز PK-856 کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے گا۔

یہ اقدام حکومتِ پاکستان کی زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دیہی ترقی کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ انسانی وسائل میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے، جو طویل المدتی طور پر پاکستان کی زراعت کو زیادہ پیداواری، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ اور برآمدات پر مبنی شعبے میں تبدیل کرے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں