اے ڈی بی کی پاکستان میں مہنگائی اور معاشی ترقی کی شرح میں کمی کی پیشگوئی

ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے جنوبی ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کے لیے آئندہ دو برسوں میں معاشی نمو کی رفتار میں سست روی کی پیش گوئی کر دی ہے۔

اے ڈی بی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کے لیے رواں سال کی متوقع معاشی شرح نمو کو 4.9 فیصد سے کم کر کے 4.7 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ اگلے برس 2026 کے لیے یہ شرح 4.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کے متعلق کہا گیا ہے کہ موجودہ سال کے دوران افراطِ زر میں کمی کی توقع ہے اور ملکی معیشت کی شرح نمو تقریباً 3 فیصد رہنے کی امید ہے۔ مہنگائی میں کمی کی بڑی وجہ خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں متوقع کمی بتائی گئی ہے۔ تاہم مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5.8 فیصد رہنے کا اندازہ برقرار رکھا گیا ہے۔

عالمی تجارتی ماحول میں غیر یقینی صورتحال اور امریکا کی جانب سے اضافی محصولات (ٹیرف) کے نفاذ کے نتیجے میں برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایشیائی ممالک خاص طور پر امریکی تجارتی پالیسیوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اے ڈی بی کے مطابق جنوبی ایشیا کی معاشی ترقی 2026 میں بڑھ کر 6.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد کے قریب رہ سکتی ہے۔ خطے کے ممالک تجارتی دباؤ سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کی معاشی نمو کم ہو کر 4.2 فیصد تک محدود ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، تیل کی پیداوار میں اضافہ وسطی ایشیائی ریاستوں کی معاشی بہتری کا سبب بنے گا، جبکہ افراط زر میں کمی کا رجحان جاری رہنے کی توقع ہے۔

چین کی اقتصادی نمو کی شرح 4.7 فیصد برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ بھارت کی ترقی کی شرح کچھ کمی کے بعد 6.5 فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ بھارت کی برآمدات بھی امریکی تجارتی اقدامات سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ادھر چین میں جائیداد کے شعبے کی کمزوری ملکی معیشت کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔

اے ڈی بی کے بیان کے مطابق افراطِ زر کی شرح 2025 میں 2.0 فیصد اور 2026 میں 2.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کی ترقی کے لیے کھلی منڈیوں اور پالیسی اصلاحات کا تسلسل ناگزیر ہے، اور اے ڈی بی نے معیشتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ساخت کو مضبوط کریں تاکہ بیرونی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری آئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں