اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان کی زیر صدارت دیوالیہ قانون اور ریاستی اداروں کی غیر ضروری ہراسانی سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسن افضل، پاکستان بزنس کونسل، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیمبرز آف کامرس، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، اینٹی منی لانڈرنگ یونٹس اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران **کارپوریٹ بحالی ایکٹ 2018** میں اہم ترامیم کی تجاویز پیش کی گئیں جن میں ریکوری پر مبنی اہلیت کی حد ختم کرنے، عدالتی حکم سے اسٹے آرڈر کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے، اور وائنڈنگ اپ آرڈر کی شکار کمپنیوں کو ریلیف فراہم کرنے جیسے نکات شامل تھے۔
کمیٹی نےاسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر 29** کے تحت ریلیف حاصل کرنے والی کمپنیوں کو بھی مجوزہ پالیسی میں شامل کرنے کی سفارش کی۔ ساتھ ہی اثاثوں کی ویلیوایشن اور ثالثی کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ پالیسی ایک جامع پیکج ہوگی جس سے متاثرہ کمپنیاں بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گی۔ بنکروپسی قانون صنعتوں کے استحکام کے لیے ایک مکمل اور مددگار قانون ثابت ہوگا۔
اجلاس میں کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016** میں ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ کارپوریٹ ریہیبلیٹیشن بورڈ کی فعالیت تقرری کے سخت معیار اور بجٹ کی کمی کے باعث تاخیر کا شکار رہی ہے۔
ہارون اختر خان کا کہنا تھا کہ اب بینک اور قرض لینے والے ادارے مل کر کام کریں گے، جس سے بحالی کے عمل کو تقویت ملے گی۔
اجلاس کے دوسرے حصے میں ریاستی اداروں کی جانب سے **غیر ضروری ہراسانی** سے متعلق ذیلی کمیٹی نے بھی اپنی سفارشات پیش کیں۔
ایس ای سی پی کے خودمختار کردار اور فیصلوں کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ غیر سیاسی اور مداخلت سے پاک ماحول کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن بیمار یونٹس کی بحالی اور غیر ضروری ہراسانی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے ذیلی کمیٹیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کے کام کو قابلِ تحسین قرار دیا۔