سلامتی کونسل میں عالمی امن کیلیے پاکستان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

عالمی تنازعات کے پُرامن حل کے سلسلے میں پاکستان کو ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جب سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ قرارداد 2788 (2025) کو مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔

یہ پیش رفت بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مؤثر کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس قرارداد کا عنوان رکھا گیا تھا: “تنازعات کے پُرامن حل کے لیے طریقہ کار کو مؤثر بنانا”, جسے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر پیش کیا۔

اس قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ سفارتی سرگرمیوں، ثالثی کے عمل، اعتماد کے فروغ، اور بین الاقوامی و علاقائی مکالمے کو تنازعات کے دیرپا اور پائیدار حل کے بنیادی ذرائع تصور کیا جائے۔

سلامتی کونسل نے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل میں طاقت کے استعمال کے بجائے پُرامن طریقوں کو ترجیح دیں اور متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔

دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیمیں اپنی کاوشیں تیز کریں اور اقوام متحدہ سے تعاون کو مزید مضبوط کریں تاکہ پُرامن حل کے امکانات کو بڑھایا جا سکے۔

پاکستان نے اس قرارداد کی منظوری کو اقوام متحدہ میں اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر قیامِ امن کی جانب ایک مثبت اور مؤثر قدم قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں