ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 17 ارب 89 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں

ادارہ شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی برآمدات میں 7.39 فیصد کا ہلکا سا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد ان کی مجموعی مالیت 17.89 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو گزشتہ مالی سال میں 16.66 ارب ڈالر تھی۔

اگر مصنوعات کی نوعیت کے اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ اضافہ تیار شدہ ملبوسات (ریڈی میڈ گارمنٹس) میں ہوا، جن کی برآمدی مالیت میں 15.85 فیصد اور برآمد شدہ مقدار میں 5.80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے بعد نٹ ویئر کی برآمدات میں مالیت کے لحاظ سے 13.68 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 6.47 فیصد کا اضافہ ہوا۔ بیڈ ویئر کی مالیت میں 11.07 فیصد اور حجم میں 8.37 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ تولیوں کی برآمدات میں مالیت کے اعتبار سے 2.61 فیصد اور مقدار میں 1.62 فیصد اضافہ سامنے آیا۔

دوسری جانب، سوتی کپڑے (کاٹن کلاتھ) کی برآمدی مالیت میں 3.05 فیصد اور مقدار میں 7.03 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یارن (دھاگے) کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی، اور یہ 28.76 فیصد تک کم ہو گئیں۔

تولیوں کے علاوہ دیگر تیار کردہ مصنوعات (میڈ اپ آرٹیکلز) کی برآمدات میں 8.45 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ ٹینٹ، کینوس اور ترپال کی برآمدی مالیت میں 6.21 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ اس کے برخلاف، خام روئی (را کاٹن) کی برآمدات میں زبردست کمی آئی، جو 98.45 فیصد تک گر گئیں۔

درآمدات کے ضمن میں، مصنوعی ریشے اور مصنوعی ریشم کے دھاگے (آرٹیفیشل فائبر اور سلک یارن) کی درآمدات میں بالترتیب 5.19 فیصد اور 12.03 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمدات میں 67.99 فیصد کا خاطر خواہ اضافہ ہوا، جبکہ خام روئی کی درآمدات میں سال بہ سال 182.53 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو کہ مقامی پیداوار میں کمی اور ملکی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

پرانے اور استعمال شدہ کپڑوں کی درآمدات میں 17.79 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات میں 61.51 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان کی کل برآمدات مالی سال 2025 میں 4.45 فیصد کے اضافے سے 32.04 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے مالی سال میں 30.67 ارب ڈالر تھیں۔

مالی سال 2025 کے دوران تیل کی درآمد پر آنے والی لاگت میں 5.76 فیصد کی کمی آئی، جس کے بعد یہ 15.94 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 16.91 ارب ڈالر تھی۔ یہ کمی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی اور کم درآمدی اخراجات کی بدولت واقع ہوئی۔

خام تیل کی درآمدی مالیت میں 1.54 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم درآمد کی گئی مقدار میں 12.39 فیصد اضافہ ہوا، جو 10.18 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ پچھلے سال یہ 9.05 ملین ٹن تھی۔ اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی مالیت میں 10.3 فیصد کمی آئی، لیکن مقدار میں 4.28 فیصد اضافہ ہوا، اور یہ 10.80 ملین ٹن رہی، جو کہ پچھلے سال 10.35 ملین ٹن تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں