ٹیسلا نے ماڈل وائی کو 70,000 ڈالر میں متعارف کروا دیا

اسلام آباد۔ٹیسلا نےبھارت میں اپنی ماڈل وائی تقریباً 70,000 ڈالر میں لانچ کر دی، جو کہ کمپنی کے دیگر بڑے بازاروں کے مقابلے میں خاصا زیادہ قیمت ہے۔ اس کی وجہ بھارت میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر عائد بھاری محصولات ہیں جن پر سی ای او ایلون مسک نے طویل عرصے سے تنقید کی ہے۔

متوقع ہے کہ ڈلیوریز تیسری سہ ماہی سے شروع ہوں گی۔ امریکی آٹو میکر بھارت کے اس خاص الیکٹرک گاڑی کے شعبے کو ہدف بنا رہا ہے جو دنیا کی تیسری بڑی گاڑی مارکیٹ میں مجموعی فروخت کا صرف 4 فیصد بنتا ہے۔

یہ ماڈل وائی بنیادی طور پر جرمن لگژری کار ساز کمپنیوں جیسے بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز-بینز اور جنوبی کوریا کی کِیا کے ساتھ مقابلہ کرے گا، نہ کہ بھارتی عام مارکیٹ میں کام کرنے والی کمپنیوں جیسے ٹاٹا موٹرز اور مہندرہ کے ساتھ۔

ٹیسلا نے ممبئی میں اپنا پہلا شو روم کھولا اور اپنی ویب سائٹ پر ماڈل وائی کی آرڈرز لینا شروع کر دیے، جو اس مارکیٹ میں طویل انتظار کے بعد انٹری ہے، جہاں مسک نے کبھی ایک فیکٹری کھولنے کے منصوبے بھی بنائے تھے۔

فی الحال، ٹیسلا ایسی گاڑیاں بھارت میں درآمد کرے گا جہاں محصولات اور متعلقہ ڈیوٹیاں 100 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہیں، جو صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔

ٹیسلا ماڈل وائی ریئر وہیل ڈرائیو کی قیمت تقریباً 60 لاکھ روپے (70,000 ڈالر) ہے، جبکہ ماڈل وائی لانگ رینج ریئر وہیل ڈرائیو کی قیمت 68 لاکھ روپے ہے، جیسا کہ ویب سائٹ پر درج ہے۔

یہ قیمتیں محصولات اور ریاست کی جانب سے عائد اضافی ٹیکسز سمیت ہیں۔ ویب سائٹ پر قیمت کی تفصیل موجود نہیں تھی اور رائٹرز فوری طور پر اصل قیمت معلوم نہیں کر سکا۔

موازنہ کے طور پر، امریکہ میں ماڈل وائی کی ابتدائی قیمت 44,990 ڈالر ہے، چین میں 263,500 یوان (36,700 ڈالر) اور جرمنی میں 45,970 یورو (53,700 ڈالر) ہے۔

شو روم میں میڈیا کے لیے منعقدہ خصوصی تقریب میں، ٹیسلا نے چین میں بنائی گئی دو ماڈل وائی گاڑیاں اور اپنا سپرچارجر دکھایا، جو ممبئی میں آٹھ مختلف مقامات پر اور نئی دہلی اور آس پاس میں بھی نصب کیے جائیں گے، جہاں اگلا شو روم بھی کھولا جائے گا۔

ٹیسلا کی علاقائی ڈائریکٹر، ازابیلا فین نے لانچ تقریب میں کہا،ہم یہاں ایکوسسٹم بنانے آئے ہیں، ضروری انفراسٹرکچر بشمول چارجنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے۔

انہوں نے مزید کہا،”ہم صفر سے شروع کر رہے ہیں اور پورے ملک کو کور کرنے میں وقت لگے گا۔

عالمی فیکٹریوں میں اضافی پیداوار اور فروخت میں کمی کا سامنا کرنے والی ٹیسلا نے بھارت میں درآمد شدہ گاڑیاں فروخت کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے، باوجود اس کے کہ محصولات اور دیگر ٹیکسز بہت زیادہ ہیں۔

امریکی ای وی ساز کمپنی نے طویل عرصے سے بھارت سے گاڑیوں پر عائد درآمدی محصولات میں کمی کا مطالبہ کیا ہے، اور وزیر اعظم نریندر مودی کے حکام ابھی بھی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے دو طرفہ تجارتی معاہدے کے تحت محصولات میں کمی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

ٹیسلا کی امریکی فیکٹریاں فی الحال بھارت میں استعمال ہونے والی رائٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں تیار نہیں کرتیں۔

کمپنی کی فل سیلف ڈرائیونگ کی صلاحیت اضافی 600,000 روپے کی قیمت پر دستیاب ہے، لیکن ویب سائٹ کے مطابق “فعال ڈرائیور نگرانی” ضروری ہوگی، اور موجودہ خصوصیات گاڑی کو مکمل خود مختار نہیں بناتیں۔

اگرچہ بھارت کی روڈ انفراسٹرکچر میں بہتری آئی ہے، مگر ٹریفک کی پابندیوں جیسے لین میں ڈرائیونگ ابھی ابتدائی سطح پر ہے، ای وی چارجنگ اسٹیشنز بہت کم ہیں، اور سڑکوں پر مویشیوں سمیت کھلے جانور اور گڑھے بھی شہر میں بھی بڑا چیلنج ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ، دیوندرا فڈنوس نے نئی ٹیسلا آؤٹ لیٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،مستقبل میں ہم چاہتے ہیں کہ بھارت میں تحقیق و ترقی اور مینوفیکچرنگ ہو، اور مجھے یقین ہے کہ مناسب وقت پر ٹیسلا اس پر غور کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں