اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک خودکار اور سادہ انٹرایکٹو ٹیکس ریٹرن فارم کا اجرا کر دیا گیا ہے۔
یہ نیا نظام کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) سے منسلک ڈیٹا، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، خریداری، اور ذرائع سے کی جانے والی کٹوتیوں کو خود بخود فائل میں شامل کرے گا، تاکہ فائلر کے لیے فارم بھرنے کا عمل آسان اور تیز ہو سکے۔
اس وقت نیا ریٹرن فارم صرف انگریزی زبان میں دستیاب ہے، تاہم اردو ورژن رواں ماہ کے اختتام تک پیش کر دیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں یہ فارم سندھی اور پشتو زبان میں بھی دستیاب ہوگا، جبکہ پنجابی اور بلوچی ورژنز بعد میں متعارف کرائے جائیں گے۔
ایف بی آر کے مطابق نیا ریٹرن فارم آٹھ آسان ڈیجیٹل ونڈوز پر مشتمل ہے جن میں ایک سوال فی اسکرین ہوگا، تاکہ مرحلہ وار رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
مثال کے طور پر، فائلر جب اپنے آجر کا نام درج کرے گا، تو ٹیکس کٹوتیوں کی تفصیلات خودکار طور پر ظاہر ہوں گی۔ اسی طرح بینک تفصیلات فراہم کرنے پر کلوزنگ بیلنس بھی خود آ جائے گا۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے 50 ہزار روپے سے کم رقم والے انکم ٹیکس ریفنڈز ایک ماہ کے اندر جاری کیے جائیں۔ اس اقدام سے تقریباً 10 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کیے جائیں گے۔
مزید برآں، وزیراعظم نے ایف بی آر کو اردو زبان میں ڈیجیٹل انوائسنگ کا عمل بھی فوری شروع کرنے کی ہدایت کی، تاکہ عام شہریوں کے لیے سہولت پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے ایک ہیلپ لائن قائم کرنے کی ہدایت بھی دی، جو فائلرز کی راہنمائی کرے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سادہ ٹیکس ریٹرن منگل سے دستیاب ہوگا، جبکہ دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے 30 جولائی سے رسائی ممکن ہو گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکس ریٹرن فارم کو ڈیجیٹل، مختصر اور مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جا چکا ہے، جس سے سب سے زیادہ فائدہ تنخواہ دار طبقے کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکس اسیسمنٹ نظام کی کامیاب تنصیب حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔
مزید ہدایات میں وزیراعظم نے کہا کہ تمام ایف بی آر اصلاحات کی شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ڈیجیٹل انوائسنگ میں شامل کرنے کے لیے خصوصی سہولیات دینے پر زور دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز آٹومیشن اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے تحت ایک ماہ میں 8,000 انوائسز جاری کی گئیں جن کی مالیت 11.6 ارب روپے ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے راسٹ (Raast) جیسے ڈیجیٹل ادائیگی پلیٹ فارم کے بورڈ اور چیئرمین کی تقرری ستمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ موبائل ایپس اور ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد 9.5 کروڑ سے بڑھا کر 12 کروڑ کی جائے گی، جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حجم 7.5 ارب سے بڑھا کر 15 ارب روپے کیا جائے گا۔
عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اگلے ماہ ملک گیر مہم کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے بھجوائی جانے والی رقوم کو بھی باضابطہ بینکاری نظام سے منسلک کرنے کی حکمت عملی پر کام جاری ہے