اسلام آباد – چینی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے تین لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہری مہنگائی کی چکی میں مزید پسنے لگے ہیں۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کے ایک اعلیٰ افسر نے تسلیم کیا کہ چینی کے شعبے میں قومی سطح پر کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، جس کے باعث حکومتی اقدامات محض عارضی ری ایکشن بن چکے ہیں۔ ان کے بقول، “جب تک مستقل پالیسی نہیں بنتی، یہ بحران ختم نہیں ہوگا۔”
حکومت نے 4 جولائی کو 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی جبکہ 10 جولائی کو 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بولی دی۔ اس کے باوجود ملک بھر میں چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کے بحران کی جڑیں نظامی خرابیوں میں پیوستہ ہیں۔ شوگر مل مالکان، بروکرز، بیوپاری، اور صوبائی حکومتوں کی ناقص نگرانی مل کر مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں۔ چینی کے اس پورے نظام میں منافع خوری کو فروغ ملا ہے، جبکہ صارف ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے۔
وزارتِ تجارت کے مطابق، درآمدی چینی کراچی بندرگاہ پر بغیر ٹیکس کے بھی 155 سے 160 روپے فی کلو میں پڑ رہی ہے۔ پنجاب میں قیمت 165 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں ٹرانسپورٹ اخراجات کے باعث مزید مہنگی ہے۔ دوسری طرف، درآمدی چینی باریک ہوتی ہے جبکہ پاکستانی صارفین موٹی دانے والی چینی کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے درآمد شدہ چینی کی افادیت بھی متاثر ہوئی ہے۔
جون 2024 میں حکومت نے 1.5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی مشروط اجازت دی تھی، تاہم مارچ 2025 تک 7.5 لاکھ ٹن چینی برآمد کی جا چکی تھی، جو ہدف سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ فیصلہ غیر حقیقی اندازوں پر مبنی تھا جس نے ملک میں قلت کو بڑھا دیا۔
ذرائع کے مطابق، بڑے شوگر مل مالکان چینی بروکرز کو خفیہ معاہدوں کے تحت چینی فروخت کرتے ہیں، جو اسے گوداموں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور مناسب وقت پر جاری کر کے زیادہ منافع کماتے ہیں۔ کئی بروکرز خود بھی شوگر ملز کے مالک ہیں، جس سے چینی کی مارکیٹ میں مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے۔
پنجاب اور سندھ مارکیٹ کو خود کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت سیاسی دباؤ کے تحت قیمتوں پر کنٹرول کی کوشش کرتی ہے۔ اس تضاد کے باعث ایک متحد حکمتِ عملی نہیں بن پا رہی، جس کا فائدہ مافیا اٹھا رہا ہے۔
چینی کا بحران صرف پیداوار یا درآمدات کا نہیں، بلکہ بدانتظامی، سیاسی مفادات، اور مارکیٹ مافیا کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ جب تک قومی سطح پر مربوط پالیسی، سخت نگرانی، اور شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، عوام چینی کے نام پر لوٹے جاتے رہیں گے۔