اسلام آباد۔پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آئین میں 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اپنے پانچ ارکانِ قومی اسمبلی کو پارٹی سے باقاعدہ طور پر نکال دیا ہے۔ یہ فیصلہ کئی ماہ کی اندرونی کارروائیوں اور وضاحت طلب کرنے کے بعد سامنے آیا۔
پارٹی کی جانب سے 12 جولائی کو جاری کیے گئے نوٹسز میں بتایا گیا ہے کہ ان ارکان نے پارٹی پالیسی کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور دیگر جماعتوں کی حمایت کر کے پی ٹی آئی کے نظریے اور وفاداری کے حلف کو توڑا ہے۔
جن ارکان کو پارٹی سے نکالا گیا ہے ان میں اورنگزیب خان کھچی (NA-159، وہاڑی IV)، محمد الیاس چوہدری (NA-62، گجرات I)، عثمان علی (NA-142، ساہیوال II)، مبارک زیب خان (NA-8، باجوڑ) اور ظہور حسین قریشی (NA-146، خانیوال III) شامل ہیں۔
نوٹس کے مطابق، 2 ستمبر 2024 کو اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی آئینی ترمیم کی مخالفت کرے گی۔ اس کے باوجود مذکورہ ارکان نے پارلیمنٹ میں بل کی حمایت کر کے پارٹی فیصلے کی خلاف ورزی کی۔
پی ٹی آئی نے نومبر 2024 میں ان ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے، لیکن کسی نے بھی تسلی بخش جواب یا وضاحت پیش نہیں کی۔ پارٹی کے مطابق، مبارک زیب اور کھچی نے بعد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی، جبکہ دیگر تین ارکان حکومت کے اجلاسوں میں شرکت کرتے پائے گئے۔
نوٹس میں کہا گیا: “آپ نے پارٹی کی ہدایات اور اصولوں کو توڑا، اپنی وفاداری تبدیل کی اور دوسرے پارلیمانی گروپ کا حصہ بن گئے۔ اس بنا پر آپ کو فوری طور پر پارٹی سے نکالا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ آئینی ترمیم 2024، جسے “آئینی پیکیج” کہا جاتا ہے، میں چیف جسٹس کے سوموٹو اختیارات کو محدود کیا گیا تھا، چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت تین سال مقرر کی گئی تھی، اور وزیراعظم کو سینئر ججوں میں سے نیا چیف جسٹس مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔