نیوز ٹوڈیز اسپیشل رپورٹ
بلوچستان کے ضلع ژوب میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ صرف ایک دہشتگرد حملہ نہیں، بلکہ پاکستان کے وفاق، امن اور بین الصوبائی یکجہتی پر ایک منظم حملہ ہے۔ جمعرات کی رات فتنۃ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں نے کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو مسافر کوچز کو روکا، شناخت کے بعد 9 معصوم مسافروں کو اغوا کر کے شہید کر دیا۔
یہ حملہ صرف دہشت گردی نہیں، بین الصوبائی نفرت کو ہوا دینے کی سازش ہے۔
دہشت گردوں نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور خاص طور پر ان افراد کو چن کر باہر نکالا جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔ یہ عمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حملے کا مقصد صرف قتل نہیں بلکہ لسانی بنیاد پر نفرت پھیلانا تھا۔
دہشتگردوں کی “سلیکٹو کلنگ” کیا پیغام دے رہی ہے؟
یہ سوال اب قومی سلامتی کے اداروں اور عوام دونوں کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ کیا یہ واقعہ بلوچستان میں فرقہ واریت اور لسانی بنیادوں پر عوام کو بانٹنے کی نئی سازش ہے؟
کیا یہ پاکستان دشمن قوتوں کی پراکسی وار کا حصہ ہے جس کے پیچھے فتنۃ الہندوستان کی پشت پناہی ہے؟
ایک بچ جانے والے عینی شاہد کا بیان:
“انہوں نے شناختی کارڈ چیک کیے، 10 افراد کو نکالا، مجھے چھوڑ دیا، جیسے ہی کوچ چلی، میں نے پیچھے گولیوں کی آواز سنی۔۔۔”
بلوچستان لبریشن فرنٹ کی کھلی درندگی
بعد ازاں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس بہیمانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ اس بیان کے بعد ریاستی اداروں کے لیے یہ ایک چیلنج بن گیا ہے کہ وہ بلوچستان میں “ٹارگٹ کلنگ” کے پیچھے چھپے ناپاک عزائم کو بے نقاب کریں۔
سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ:
ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہیش ٹیگ #بلوچستان_کا_سچ، #PunjabisTargeted اور #StopEthnicKillings ٹرینڈ کرنے لگے ہیں۔
کئی صارفین نے اس واقعے کو پاکستان کے اندرونی امن پر حملہ قرار دیا۔
نوجوانوں نے ویڈیوز میں مطالبہ کیا ہے کہ ریاست خاموش تماشائی نہ بنے۔
عالمی میڈیا کی خاموشی بھی سوالیہ نشان؟
ایسا کیوں ہے کہ جب پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف فرضی واقعات ہوتے ہیں تو مغربی میڈیا شور مچاتا ہے، لیکن جب پاکستانیوں کو شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جائے، تو وہ خاموش رہتا ہے؟
کیا انسانی حقوق صرف مخصوص ایجنڈوں کے لیے مختص ہیں؟
اب سوال یہ ہے:
یہ واقعہ انٹیلی جنس کی ناکامی ہے یا بلوچستان کی پالیسیوں پر نظرثانی کا وقت آ چکا؟
کیا وفاقی حکومت ایسے واقعات پر ایک قومی بیانیہ اور پالیسی دے گی؟
کیا لسانی بنیاد پر حملوں کے خلاف قومی سطح پر کوئی سخت قانون بنایا جائے گا؟
یہ واقعہ صرف 9 افراد کا قتل نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے — پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کا۔
بلوچستان کے عوام، پنجاب کے شہری، سندھ کے لوگ یا خیبرپختونخوا کے باشندے — سب ایک قوم ہیں۔
اگر آج اس سازش کو بے نقاب نہ کیا گیا تو کل یہ آگ ہر دروازے تک پہنچ سکتی ہے۔