لندن۔خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے تعاون سے خلا میں بھیجا گیا نِکس (Nyx) کیپسول، کامیاب پرواز کے بعد پیراشوٹ کے نظام میں خرابی کے باعث سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔
یہ کیپسول 23 جون کو وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے روانہ ہوا تھا اور اگلے ہی دن کامیابی سے زمین کے کرہٴ ہوائی (ایٹماسفیئر) میں داخل ہوا، تاہم بحرالکاہل میں گرنے کے باعث مکمل طور پر ضائع ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس میں موجود بھنگ اور انسانی راکھ بھی سمندر برد ہو گئی۔
بھنگ کا پودا ’مارشین گرو‘ کے نام سے جاری سائنسی تحقیق کا حصہ تھا، جس کا مقصد مائیکرو گریوٹی میں بیج سے پودا بننے کے عمل اور سخت ماحول میں افزائش پر تحقیق کرنا تھا۔
جہاں تک انسانی باقیات کا تعلق ہے، وہ بطور اعزاز خلا میں بھیجی گئی تھیں تاکہ ان افراد کو ایک منفرد انداز میں رخصت کیا جا سکے۔
ٹیکساس کی کمپنی سیلیسٹس (Celestis) نے 166 افراد کی راکھ پر مشتمل کارگو نِکس کیپسول کے ذریعے روانہ کی تھی، جس کا مقصد اُن کی یادگار خلا نوردی کو ممکن بنانا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں جب سیلیسٹس کو پے لوڈ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے پہلے 2023 میں بھی، جب ناسا کے ایک مرحوم خلا نورد کی راکھ خلا میں بھیجی جا رہی تھی، تو متعلقہ راکٹ نیو میکسیکو کے اوپر فضا میں دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا۔
ٹی ای سی (The Exploration Company) نے اپنے بیان میں تمام متاثرہ افراد سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان صارفین کے اعتماد کو سراہتے ہیں جنہوں نے اپنا پے لوڈ اُن کے حوالے کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انہیں امید ہے کہ اُن خاندانوں کو سکون ملے گا یہ جان کر کہ اُن کے پیارے خلا کی تاریخی مہم کا حصہ بنے، زمین کے گرد مدار میں سفر کیا اور اب بحرالکاہل کی گہرائیوں میں محوِ آرام ہیں۔
یہ مشن ’مشن پاسیبل‘ پروگرام کے تحت جرمن اسٹارٹ اپ ’دی ایکسپلوریشن کمپنی‘ (TEC) کی نگرانی میں انجام دیا گیا تھا۔