پاکستانی حجاج کرام کا سمارٹ واچز اور سولر چھتریوں سے سجی گرین زیارت

اسلام آباد ۔پاکستانی حجاج کرام نے حج 2025 میں نہ صرف روحانی عبادات کا فریضہ ادا کیا بلکہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کا بھی شاندار استعمال کیا، جسے سوشل میڈیا پر “گرین پلگرمیج” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس سال حج کے دوران پاکستانی حجاج کی بڑی تعداد نے *سولر انرجی سے چلنے والی چھتریاں، اسمارٹ واچز، GPS بینڈز،* اور *پورٹ ایبل پنکھے* استعمال کیے، جن کا مقصد شدید گرمی میں آسانی اور توانائی کے متبادل ذرائع کا استعمال تھا۔

کراچی، لاہور، ملتان اور پشاور سے تعلق رکھنے والے کئی حجاج نے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں وہ خودکار پنکھوں سے لیس سولر چھتریاں استعمال کرتے دکھائی دیے۔ ایک بزرگ حاجی نے ویڈیو میں بتایا:
“یہ چھتری گرمی میں سایہ بھی دیتی ہے اور پنکھا بھی چلاتی ہے، بیٹری چارج کرنے کے لیے سورج کی روشنی کافی ہے۔

اسی طرح نوجوان حجاج نے اسمارٹ واچز سے اپنی واک، دل کی دھڑکن، پانی پینے کا ریکارڈ اور GPS لوکیشن پر نظر رکھی۔ کئی فیملیز نے واٹس ایپ پر لوکیشن شیئرنگ کے ذریعے گروپ مینجمنٹ کی۔ ایک ٹرینڈی حاجن نے تو وی لاگ میں کہا:
یہ حج، روایت اور ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج ہے۔

ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ پاکستانی حجاج خود بخود جدید سہولیات سے لیس ہو کر نہ صرف عبادات کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ان چیزوں کی افادیت سکھا رہے ہیں۔ حج مشن کے مطابق، سعودی عرب نے کئی سرکاری حج کیمپوں میں *الیکٹرک کولنگ اسکارف اور ہائیڈریشن بوتلز* فراہم کیں، جنہیں پاکستانی زائرین نے بھی سراہا۔

گرین پلگرمیج کا تصور عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں بہت اہم ہے، اور پاکستانی حجاج نے اس میں بھرپور حصہ ڈال کر ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ ایمان اور ماحول ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔

اگر حکومت پاکستان اس رجحان کو آگے بڑھائے، تو آئندہ برسوں میں *ایکو-فرینڈلی حج کٹس، ری سائیکلیبل سامان، اور ڈیجیٹل حج گائیڈز* جیسے منصوبے پاکستان کا امیج دنیا بھر میں مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ صرف سفرِ حج نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، شعور اور ماحول دوستی کا ملاپ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں