لاہور میں 8 گھنٹے کی طوفانی بارش، شہر ڈوب گیا

لاہور کے علاقے نشتر ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، سمن آباد، قرطبہ چوک، گلبرگ، تاج پورہ اور جوہر ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں بادل خوب برسے۔ بارش کے نتیجے میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ شہری اپنی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو دھکا لگا کر پانی سے نکالنے پر مجبور ہو گئے۔ سرکاری مشینری نکاسی آب کے لیے سرگرم تو رہی، مگر کئی مقامات پر صورتحال قابو سے باہر ہوتی نظر آئی۔

پی این ٹی کالونی میں ایل او ایس نالے کی دیوار ٹوٹنے سے گھروں میں گندا پانی بھر گیا، جس نے وہاں کے رہائشیوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ متاثرہ افراد متعلقہ اداروں سے مدد کی اپیل کرتے رہے، مگر امداد تاخیر کا شکار رہی۔ جناح ہسپتال کے داخلی راستے بھی پانی میں گھرے رہے، جس سے مریضوں اور تیمارداروں کو آمد و رفت میں دشواری ہوئی۔ ہسپتال کی کئی چھتیں بھی ٹپکتی رہیں۔

بارش رکنے کے بعد بھی کئی علاقوں میں پانی جمع رہا۔ تاریخی مقام شالیمار باغ کے ساتھ میجر جمیل روڈ ابھی تک پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جو انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے شدید غصے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نکاسی آب کے مؤثر اقدامات کیوں نہ کیے جا سکے۔

دوسری جانب وزیر ہاؤسنگ پنجاب بلال یاسین کا کہنا ہے کہ لاہور کے اہم مقامات سے صرف ایک گھنٹے میں پانی نکال لیا گیا۔ ان کے مطابق بھارت اور نیویارک میں اتنی ہی مقدار کی بارش کے بعد پانی نکالنے میں 20 گھنٹے لگے، جبکہ لاہور میں صرف دو گھنٹے میں اہم علاقوں کو کلیئر کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے 31 انڈر پاسز کو بروقت کلیئر کیا گیا اور بارش کے باعث شہریوں کو جو مشکلات پیش آئیں، وہ پیک آورز کی وجہ سے تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں 13 زیر زمین واٹر ٹینکس زیر تعمیر ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

تاہم زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ شہریوں کو اب بھی نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کی شکایات ہیں اور امدادی کارروائیاں مکمل نظر نہیں آتیں۔ بارش کا نیا سلسلہ اگر جلد شروع ہوا تو صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں