پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے ریاست کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تم میری حکومت کو آئینی طریقہ کار کے تحت گرانے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ایسا کر کے دکھاؤ، اور اگر تم کامیاب ہوگئے تو میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلوں گا۔
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران علی امین گنڈا پور نے ایک بار پھر سخت اور جارحانہ رویہ اپنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ریاست کو ماں کا درجہ حاصل ہے، لیکن موجودہ حالات میں ریاست ہمارے ساتھ ظلم و جبر کا رویہ اپنا رہی ہے، لہٰذا اب میں ریاست اور تمام اداروں کو چیلنج دے رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تم نے ہمارے خلاف سازشیں رچائیں مگر کامیابی حاصل نہ کی، غیر آئینی راستے اپنائے لیکن ان میں بھی تمھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تم لوگ ماضی میں مارشل لا اور گورنر راج جیسے غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کر چکے ہو، اب میں تمھارے اختیارات اور قوت کو للکارتا ہوں، ہمارے لوگوں کو قید میں ڈال دو، پوری طاقت لگا کر خیبرپختونخوا کی حکومت کو گرا کر دکھاؤ۔
انہوں نے مزید کہا کہ تم قانونی یا آئینی ذرائع سے ہماری حکومت کو ختم نہیں کر سکتے، کیونکہ تم ہمارے کارکنان کو توڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور کسی میں یہ جرأت نہیں کہ وہ عمران خان کے تربیت یافتہ افراد کو توڑ دے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس اُن تمام عناصر کے لیے ایک پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہم منتشر ہوچکے ہیں۔ ہم بانی پی ٹی آئی کی آزادی کے لیے اپنی جان، مال اور وقت سب قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں نو مئی سے قبل گرفتار ہوا تھا، اور اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ 9 مئی کے واقعات ہماری جانب سے زیادتی تھے، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف سازش اس تاریخ سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم دراصل عدلیہ پر حملہ ہے، اور جب تک ہم دوبارہ اقتدار میں آ کر اس ترمیم کو واپس نہیں لیتے، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، وہ پارٹی کے قائد ہیں اور ان سے ملاقات ہمارا بنیادی حق تھا، لیکن میں نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ یہ ملاقات ہونے نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ہماری حکومت اور تمام اختیارات بانی پی ٹی آئی کے پاس ہیں، وہ جب چاہیں ہماری حکومت کو ختم کرنے کا حکم دے سکتے ہیں، لیکن آئینی ذرائع سے ہماری حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ میرا یہ دوٹوک چیلنج ہے کہ غیر آئینی طریقے استعمال نہ کیے جائیں، اور حقیقت یہ ہے کہ آئینی طریقے سے بھی آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ہم اُن لوگوں سے بات چیت چاہتے ہیں جو اصل اختیار رکھتے ہیں۔ اس وقت ملک کو زبردستی اور دھونس کے بل پر چلایا جا رہا ہے، اور سب کو معلوم ہے کہ مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی کی حیثیت کیا ہے۔
تحریک سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محرم کے بعد ہم ملک گیر سطح پر اپنی سیاسی مہم کا آغاز کریں گے اور اسے وسعت دیں گے، اور اگر ہم پر فائرنگ کی گئی تو ہم بھی اسی انداز میں جواب دیں گے۔