گلگت بلتستان کے دلکش وادی اسکردو سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوہ پیما اشرف سدپارہ نے اپنی مہارت، ہمت اور جذبے سے دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت (8126 میٹر) کو سر کرکے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
اس مہم میں اشرف سدپارہ نے نہ صرف شدید برفباری، آکسیجن کی کمی اور منفی درجہ حرارت کا مقابلہ کیا، بلکہ ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں۔
اشرف کا تعلق مشہور کوہ پیما مرحوم محمد علی سدپارہ کے خاندان سے ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اشرف کی اس کامیابی کو علی سدپارہ کی میراث کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر خراج تحسین
نانگا پربت سر کرنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ٹوئٹر (X)، فیس بک اور انسٹاگرام پر اشرف سدپارہ کا نام #AshrafSadpara اور #NangaParbat جیسے ہیش ٹیگز کے ساتھ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
ٹوئٹر پر صارفین کا ردعمل دیکھیں
مشہور اینکر پرسنز، بلاگرز اور ماونٹین کلبز نے بھی اشرف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک “فخر کا لمحہ” ہے۔
خطرناک مہم، کامیاب اختتام
نانگا پربت کو “قاتل پہاڑ” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں بہت سے تجربہ کار کوہ پیماؤں نے جانیں گنوائیں۔ اشرف نے اس مہم کے دوران ایک انتہائی دشوار گزار اور خطرناک راستہ اختیار کیا، جسے “راکی فیس روٹ” کہا جاتا ہے۔
اشرف کی ٹیم نے بغیر سپورٹ آکسیجن کے چوٹی سر کی، جو ایک غیرمعمولی کامیابی ہے۔
قوم کے لیے پیغام
اشرف سدپارہ نے چوٹی پر سبز ہلالی پرچم لہرا کر ویڈیو پیغام میں کہا:
“یہ پاکستان کے ہر نوجوان کے لیے ہے جو خواب دیکھتا ہے۔ اگر آپ میں جنون ہو تو دنیا کی کوئی چوٹی بلند نہیں۔”